عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

گونگے کا خطبہ

abdul razzaq wahidi ka afsana



مرکزی خیال:خاموشی بعض اوقات کمزوری نہیں بلکہ ایک احتجاج اور حتمی سچائی ہوتی ہے۔ جب الفاظ منافقت کا روپ دھار لیں تو خاموش عمل پورے معاشرے اور اس کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔


وہ شہر کے مرکزی چوک میں ہر جمعہ کو آ کر بیٹھتا تھا — ایک گونگا شخص، جس کے ماضی یا نسب سے کوئی واقف نہ تھا۔ اس کے پاس لکڑی کا ایک چھوٹا سا تختہ تھا اور چند چاک۔ شاہرائے عام سے گزرتے لوگ اسے محض ایک بیکار وجود سمجھتے؛ کوئی رحم کھا کر ایک سکہ پھینک دیتا تو کوئی "دیوانہ" کہہ کر ٹھٹھا اڑاتا اور آگے بڑھ جاتا۔

وہ کسی تحقیر کا جواب نہیں دیتا تھا۔ بس چاک اٹھاتا اور تختے پر ایک نیا جملہ لکھ دیتا۔ مگر بھیڑ کے اس ہجوم میں کسی کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہاں رک کر پڑھتا۔

اس جمعہ کا دن لیکن مختلف تھا۔

شہر کا نامور سیاست دان اپنے جلو میں میڈیا اور کارکنان کا طوفان لیے چوک میں داخل ہوا۔ بھاری بھرکم تقریب، لہراتے پرچم، اور بینڈ کی دھنیں۔ وہ سٹیج پر کھڑا ہوا اور جذباتی انداز میں مائیک پر گرجنے لگا: "میں اس شہر کا خادمِ اعلیٰ ہوں! میں نے سڑکیں بنوائیں، ہسپتال قائم کیے، میں نے آپ کو زندگی دی..."

گونگے نے سکون سے چاک اٹھایا اور اپنے تختے پر بڑے بڑے حروف میں لکھنا شروع کیا۔

سیاست دان کا خطبہ جاری تھا اور نعرے فضا میں گونج رہے تھے، لیکن آہستہ آہستہ چوک میں موجود لوگوں کی نظریں سیاست دان سے ہٹ کر اس گونگے کے تختے پر جمنے لگی۔ وہاں لکھا تھا: "اس شخص نے چار سال پہلے اپنی بوڑھی ماں کو ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر تڑپتے چھوڑ دیا تھا — کیونکہ اس وقت اس کی گاڑی ایک سیاسی میٹنگ کے لیے نکل رہی تھی۔"

ایک دم گھمبیر خاموشی چھا گئی۔

سیاست دان کی آواز گلے میں اٹک گئی۔ اس نے تختے پر لکھی تحریر دیکھی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ہجوم میں ایک سنسنی پھیل گئی، کیمروں کے رخ گھوم گئے اور چوک سوالیہ نشان بن گیا۔

گونگا شخص خاموشی سے اٹھا، اپنے چاک جیب میں رکھے اور تختہ الٹا کر اپنی پیٹھ پر لٹکا لیا۔ جب وہ ہجوم کا سینہ چیرتا ہوا نکلنے لگا تو اس کی پیٹھ پر لٹکے تختے کے دوسرے رخ پر صاف لکھا تھا: "آج میں نے اپنے باپ کا چہرہ ننگا کر دیا۔"

وہ خاموشی سے گلی کے موڑ پر غائب ہو گیا، مگر چوک میں موجود شور اب ایک ایسا سناٹا بن چکا تھا جسے پورا شہر سن رہا تھا۔

---------------

مشکل الفاظ کے معنی:

• شاہرائے عام: عام سڑک، مرکزی راستہ۔

• تحقیر: تذلیل، ذلت، نیچا دکھانا۔

• جلو: ساتھی، لشکر، ہمراہی۔

• سنسنی: اضطراب، بے چینی، سنسناہٹ۔

مصنف نوٹ :مصنف کا مقصد سیاسی و سماجی منافقت کو بے نقاب کرنا ہے۔ کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ سچائی کو زیادہ عرصے تک دبایا نہیں جا سکتا۔ خاموش اور مظلوم طبقات جب بولنے پر آتے ہیں تو ان کا بیان بڑے سے بڑے اقتدار اور جاہ و جلال کو زمین بوس کر دیتا ہے۔

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: